66

سعودی عرب مجلس شوریٰ‌ سے منفرد اقامہ “اقامہ ممیزہ” پروگرام منظور

منفرد اقامہ رکھنے والوں کو مملکت میں کاروبار سمیت کئی دیگر مراعات حاصل ہوں گے

منفرد اقامہ سسٹم کی حمایت میں 76 جبکہ مخالفت میں 55 ووٹ ڈالے گئے

سعودی عرب کی مجلس شوریٰ‌ نے غیر معمولی خصوصیات کے حامل غیر ملکی تارکین وطن کے لئے ‘منفرد اقامہ پروگرام’ منصوبے کی منظوری دی ہے۔ منفرد اقامہ پروگرام سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی شہریوں‌ کے لیے مُملکت کی طرف سے ایک نئی سہولت ہو گی۔ منفرد اقامہ پروگرام دائمی اور عارضی دو اقسام پر مشتمل ہو گا۔ عارضی اقامہ پروگرام محدود اور مخصوص فیس ادا کر کے حاصل کیا جا سکے گا۔ مملکت میں رائج کئے جانے والے منفرد اقامہ پر رہائش پذیر تارک وطن کو سعودی عرب میں بعض اضافی مراعات حاصل ہوں گی۔ اسے محدود پیمانے پر سعودی عرب میں کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لے سکے گا۔ اس کے علاوہ منفرد اقامہ پروگرام رکھنے والے غیر ملکی کو اپنے خاندان کو ساتھ رکھنے، اقارب کو ملاقات کے لیے بلانے، مزدور منگوانے، جائیداد بنانے، نقل و حمل کے وسائل کی ملکیت حاصل کرنے کی اجازت ہو گی۔ اس کے عوض انہیں طے شدہ ضوابط کے مطابق فیس ادا کرنا ہو گی۔ منفرد اقامہ  ہولڈر کو سعودی عرب میں آمد ورفت کی اجازت ہو گی۔ دائمی اقامہ غیر معینہ مدت کے لیے ہو گا، یا قابل تجدید ہو گا۔ حکومت نے مملکت میں مثالی اقامہ کے امور کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جو صرف اقامہ معاملات کی نگرانی کرے گا۔ منفرد اقامہ کے حصول کے لیے امیدوار کے لیے وضع کردہ شرائط میں کارآمد پاسپورٹ، مالی طور استحکام، عمر کی کم سے کم حد 21 سال، سعودی حکومت کی طرف سے باقاعدہ اقامہ حاصل کر چکا ہو، حکومتی ریکارڈ میں کسی قسم کے جرم میں ملوث نہ ہو اور متعدی امراض سے محفوظ ہونے کا تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ بھی رکھتا ہو۔ مجلس شوریٰ میں منفرد اقامہ سسٹم کی رائے شماری کے لیے اس کی حمایت میں 76 اور مخالف میں 55 ووٹ ڈالے گئے۔

منفرد اقامے رکھنے والوں کو کئی حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی ۔وہ اپنے ہمراہ مملکت میں اپنے اہل خانہ کو رکھ سکیں گے جب کہ رشتے داروں کو بھی وزٹ ویزے پر بلا سکیں گے ۔ رہائش ، تجارت اور صنعت کے لیے جائیداد خرید سکیں گے ۔ نجی ٹرانسپورٹ حاصل کر سکیں گے ۔ نجی اداروں میں ملازمت بھی کر سکیں گے۔ایک نجی ادارے سے دوسرے نجی ادارے میں منتقل ہو سکیں گے ۔ یہ مراعات منفرد اقامہ رکھنے والوں کے اہل خانہ کو بھی حاصل ہوں گی، البتہ منفرد اقامہ رکھنے والے ایسے کسی پیشے سے منسلک نہیں ہو سکتے جو سعودیوں کے لیے مخصوص ہیں ۔ اس کے علاوہ غیر ملکیوں پر مقررہ فیس سے بھی انہیں استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں