61

توہین عدالت نہیں کی، گھر توڑنے کے بجائے استعفیٰ منظور، وزیربلدیات سعید غنی

ایسی کوئی بات نہیں کی جو توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہو، عدالت مجھے بطور وزیر گھر توڑنے کا حکم دے گی تو میں وزرات چھوڑ دوں گا لوگوں کے گھر نہیں توڑ سکتا۔

توہین عدالت کا نوٹس ملنے کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کے لیے تیار ہیں، ہمیں عدالتوں کا فیصلہ پسند ہو یا نہ ہو مگر عملدرآمد کرانے کے پابند ہیں۔

اپنے سابقہ بیان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو توہین عدالت کے زمرے میں آئے۔ عدالت مجھے بطور وزیر گھروں کو توڑنے کا کہے گی تو میں اپنی وزرات چھوڑ دوں گا کیونکہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔

وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ اگر عدالت نے مجھے کہا تو میں اپنی وزارت چھوڑ دوں گا اور وزیراعلیٰ کو استعفی دے دوں گا۔ گھروں کوتوڑنا کسی حکومت کے لیے ممکن نہیں۔ ہم نے اس شہر میں ہزاروں دکانیں ٹوٹتی دیکھیں، اس میں کئی لوگ بیروزگار ہیں جو آج تک اپنا کاروبار شروع نہیں کرسکے۔

سعید غنی نے کہا کہ عدالت کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے۔ سمجھتا ہوں عدالت ٹھیک کہہ رہی ہے،تاہم اس کام کے لیے ہمیں وقت کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں