85

چالیس ہزار والے پرائز بانڈ کو ختم کرنے کا فیصلہ

پرائز بانڈ اپنے نام رجسٹر کروالیں نہیں تو ختم ہوجائیں گے، حکومت نے پرائز بانڈ رکھنے والوں کو انتباہ کردیا

اسلام آبا د(نیوز ڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی کا کہنا ہے کہ پرائز بانڈ اپنے نام رجسٹر کروانا ہوں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی کا کہنا تھا کہ 40 ہزار سے زائد والا پرائز بانڈ اگر رجسٹرڈ نہیں ہوگا تو ختم ہو جائے گا۔انہوں نے کہا ہاں ہمیں وہ ڈیٹا مل گیا ہے جو پہلے نہیں تھا ہمارے پاس اسمتعلق تمام ڈیٹا موجود ہے۔شبر زیدی کا مزید کہنا تھا کہ واضح کردوں کہ ایمنسٹی سکیم کی تاریخ نہیں بڑھائی جائے گی۔ایمنسٹی سکیم کے مطابق تمام اثاثوں کو ظاہر کیا جا سکتا ہے تاہم جو گاڑی رجسٹر نہیں اس کے لیے ایمنسٹی سکیم نہیں ہے۔گھروں میں جیولری ایمنسٹی سکیم میں شامل نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جیولرز سٹاک ان ٹریڈ
ایمنسٹی سکیم میں کرسکتے ہیں اس حوالے سے ایمنسٹی سکیم میں ترامیم کریں گے۔شبر زیدی نے کہا کہ پرائز بانڈ اپنے نام رجسٹرڈ کرانے چاہیے، چالیس ہزار سے زائد والا پرائز بانڈ اگر رجسٹرڈ نہیں ہوگا تو ختم ہو جائے گا۔ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین سید شبر زیدی نے کہا ہے کہ اثاثوں کو ظاہر کرنے کی سکیم کی آخری تاریخ میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی، سکیم کے تحت تمام شہریوں کو 30 جون تک اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا موقع دیا گیا ہے جبکہ وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر نے کہا ہے کہ بے نامی قانون کے حوالے سے بزنس کمیونٹی کے ساتھ خاطر خواہ مشاورت کی گئی ہے اور مشاورت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، محصولات و اقتصادی امور کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ چیئرمین ایف بی آر نے واضح طور پر کہا کہ سکیم کی مدت میں کوئی توسیع نہیں کی جا رہی۔ کمیٹی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی اسد عمر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کئی اراکین نے سکیم کی آخری تاریخ میں توسیع کی تجویز پیش کی تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں۔سید شبر زیدی نے کہا کہ مقررہ مدت تک یا آخری تاریخ کو اثاثے ظاہر کرنے والے شہریوں کو تاریخ کے بعد بقایا جات کی ادائیگی کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سکیم کا مقصد ٹیکس جمع کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو بے نامی قانون سے نکالنے کا موقع فراہم کرنا ہے جس کا اطلاق یکم جولائی 2019ء سے ہو گا۔ چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ ماضی کے برعکس اب ایف بی آر کے پاس مختلف ذرائع سے اثاثوں کے بارے میں معلومات ملی ہیں، ان میں بینکوں اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے حاصل معلومات بھی شامل ہیں۔ملک میں
بینک کھاتہ داروں کی تعداد 45 ملین ہے جن میں سے صرف 10 لاکھ رجسٹرڈ ٹیکس گزار ہیں، اسی طرح 3 لاکھ 40 ہزار صنعتی کنکشنز لینے والے افراد میں 43 ہزار رجسٹرڈ ہیں، کمرشل، یوٹیلٹی صارفین کی تعداد 31 لاکھ ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ نادرا میں سہولتی مرکز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے، شہری ذاتی حیثیت میں جا کر اپنے اثاثوں کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں، اسی طرح ایف بی آر بھی ایک پورٹل کا آغاز کر رہا ہے جہاں پر اثاثوں کے بارے میں معلومات دستیاب ہوں گی، کوئی بھی صارف اپنے شناختی کارڈ کے نمبر کے اندراج سے معلومات حاصل کر سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں