Coronavirus 24

ویکسین کیا ہوتی ہے ؟ اور کیسے کام کرتی ہے ؟

ویکسین کو سمجھنے کیلئے آپ کو پہلے وائرس کو سمجھنا ہوگا – کرونا وائرس کے جسم کے دو بڑے حصے ہیں – ایک بیرونی خول جس کو “سپایک پروٹین ” کہتے ہیں ‘ جس کے ذریعے یہ جسم کے خلیوں سے جڑتا ہے اور دوسرا اس خول کے اندر موجود وہ خطرناک ذرہ ہے جو خلیے میں داخل ہو کر انفیکشن پھیلاتا ہے- قدرت نے انسانی جسم کو یہ صلاحیت دے رکھی ہے کہ وہ اس پروٹین خول کو ڈیٹکٹ کر لیتا ہے اور الارم بجادیتا ہے جسکی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام ایکٹو ہوجاتا ہے اور اس نظام کے وہ خلیے جن کو ” سفید خلیے ” کہتے ہیں جو جسم کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں وہ اینٹی باڈی بنا کر اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں — لیکن جب تک اینٹی باڈی وافر مقدار میں بن پاتی ہے وہ خطرناک ذرہ جو خول کے اندر تھا وہ خلیوں میں داخل ہو کر تباہی پھیلانا شروع کر دیتا ہے – اب اگر انسان اس تباہی سے بچ کر صحتیاب ہوجاے تو وہ اینٹی باڈی لمبے عرصے تک خون میں موجود رہتی ہیں اور ہمیں مستقبل کے انفیکشن سے بچاتی ہیں – اور اسی کو ” پلازمہ ” کہتے ہیں – یہ ووہی پلازمہ ہے جس کو اپنے بیمار مریض کی جان بچانے کیلئے ہم لاکھوں روپوں میں ان لوگوں سے خریدنے پر رضامند ہوجاتے ہیں جو کرونا سے صحت مند ہو چکے ہیں – یہ پڑھ کر ذہن میں خیال آتا ہے کہ کاش ایسا کوئی طریقہ ہوتا کہ جسم میں وہ خطرناک ذرہ نہ داخل ہوتا جو نقصان پہنچاتا ہے بس “پروٹین والا خول ہی داخل ہوتا جس کو بھانپ کر جسم اینٹی باڈی بنانے والا الارم بجا دیتا’ اور جسم میں اینٹی باڈی پیدا ہوجاتی جو مستقبل میں بھی ہمیں پلازما کی طرح انفیکشن سے بچاتی رہتیں- کیا ایسا کوئی طریقہ ہے ؟

جی ہاں – اسی طریقے کو “ویکسین” کہتے ہیں – گویا جنگ سے قبل فوجیوں کی جنگی مشق کروائی جاتی ہے- دشمن کا نقلی پتلا رکھا جاتا ہے لیکن بندوق میں گولیاں اصلی ہوتی ہیں جو اس پتلے پر پریکٹس کرتی ہیں – جب کبھی بعد میں اصل دشمن حملہ آور ہو تو بندوقیں اس مشق کی وجہ سے لوڈڈ رہتی ہیں – اسی طرح ویکسین میں بھی وائرس کواس طرح پروسیس کیا جاتا ہے کہ اس کا وہ “خطرناک ذرہ ” ایک کیمیکل کے ذریے ( جس کو “بیٹا پروپیو لیکٹون” کہتے ہیں ) مار دیا جاتا ہے لیکن اس کا پروٹین والا خول جو جسم کو اینٹی بادی بنانے کا الٹی میٹم دیتا ہے ‘ وہ قائم رہتا ہے – گویا خطرناک ذرہ یعنی اصل دشمن شامل نہیں ہوتا – بس وہ پروٹین والا خول یعنی دشمن کا پتلا ہی جسم کے میدان جنگ میں داخل کیا جاتا ہے جس کو دیکھتے ہی جسم “اینٹی باڈی ” کی گولیاں بندوق میں لوڈکرنے کی مشق کرنے لگتا ہے – اور جب کبھی بعد میں اصل دشمن یعنی کرونا وائرس حملہ کرتا ہے تو جسم کی فوج تیار رہتی ہے اور یہ حملہ ناکام ہوجاتا ہے

اس پروٹین والے “خول” کو بنانے کے مختلف طریقے ہیں – کبھی وائرس کو کیمکل سے پروسیس کر کہ اس کے خطر ناک ذرے کو مار دیا جاتا ہے اور اس کے بنے بنایے”پروٹین خول ” کو بغیر خطرناک ذرے کے جسم میں داخل کردیا جاتا ہے جو کہ عام طریقہ ہے (جیسا کہ پاکستان میں آنے والی ویکسین “سائنو فارم ” میں استعمال ہوا ) اور کبھی اس پروٹین بنانے والے خول کے اجزاء یعنی ایم آر این اے (mRNA ) کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے (جسا کہ امریکا میں موڈرنا اور فائزر کی ویکسین میں یہ طریقہ استعمال کیا گیا ) – آپ سب نے ڈائٹ (شوگر فری ) مٹھائی تو کھائی ہوگی جو شوگر کے مریض استعمال کرتے ہیں – اس مٹھائی میں چینی کو اس طرح پروسیس کیا جاتا ہے کہ کھانے کے بعد میٹھا تو محسوس ہوتا ہے لیکن جسم شوگر کے نقصان سے محفوظ رہتا ہے – اسی طرح ویکیسن بھی وائرس کو پروسیس کر کہ اس طرح سے بنائی جاتی ہے کہ جسم میں جاتے ہی جسم میں اینٹی باڈی تو پیدا ہوجاتی ہے لیکن جسم وائرس کے نقصان سے محفوظ رہتا ہے – یہی طریقہ پاکستان میں آنے والی ویکسین میں استعمال گیا ہے جو کہ ویکسین کا پرانا طریقہ ہے – یہ طریقہ اس سے پہلے فلو ‘ خسرے اور چیچک کی ویکسین میں بھی کامیابی سے استعمال کیا گیا ہے

پاکستان میں آنے والی ویکسین کون کون سی ہیں ؟

پاکستان میں جو ویکسین آرہی ہیں وہ ” چین میں بننے والی ” سائنو فارم ” اور یو کے کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں بننے والی ” ایسٹرا زنیکا ” ہیں اس کے علاوہ مستقبل میں روس کی ویکسین ” گمالیاه” ‘ چین کی ایک اور ویکسین ” کینسینو” بھی پاکستان میں درآمد کی جائیگی پاکستان میں موڈرنا اور فائزر (جو کہ ایم آر این اے ویکسین ہے ) درآمد نہیں کی جائیگی سائنو فارم کی پانچ لاکھ خوراکیں پہنچ چکی ہیں جب کہ ” ایسٹرا زنیکا ” کی دو کروڑ کے قریب خوراکیں ویکسین کے عالمی اتحاد ” کووویکس ” کی جانب سے پاکستان کیلئے مختص کردی گئی ہیں جو مارچ کے آخر تک آئینگی

پاکستان میں درآمد کی جانے والی ویکسین کیسے کام کرتی ہیں ؟

جیسا کہ پہلے پیرا میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ ان سب ویکسین میں ” وائرس کے پروٹین خول” جو بیماری نہیں بلکہ مدافعت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے ‘ اس کو دو مختلف طریقوں سے پروسیس کر کہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے

سائنو فارم : وائرس کو ایک کیمیکل جس کو “بیٹا پروپیو لیکٹون” کہتے ہیں ‘ سے مار کر اس کے پروٹین خول (سپایک پروٹین ) کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے جو سفید خلیوں کے ذریے اینٹی باڈیپیدا کرتا ہے

ایسٹرا زنیکا: اس ویکسین میں ایک اور وائرس “اڈینو وائرس ” (جو عام سا فلو پھیلانے کا وائرس ہے ) اس کو “ویکٹر ” یعنی سواری کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس سواری میں کرونا وائرس کا پروٹین خول (جو مدافعت پیدا کرتا ہے ) شامل کر اس کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے – اس طریقہ ویکسین کو “ریکومبیننٹ ” ویکسین کہا جاتا ہے (جیسا کہ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کا بھی کام کرنے کا طریقہ ہے )

کن کمپنیوں نے ان ویکسین کو بنایا ہے اور کن کن ملکوں میں اب تک ان کے تجربات ہوے ہیں ؟ ان ویکسین کی افادیت کتنی ہے ؟

“سائنو فارم ” چائنا کی ایک مشہور کمپنی ” بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف بیالوجی ” نے بنایی ہے اس ویکسین کو دسمبر 2020 میں چائنا اور جنوری 2021 میں متحدہ عرب امارات میں منظوری دی گئی جس کے بعد یہ ویکسین چائنا میں دس لاکھ لوگوں کو لگائی جا چکی ہے اور متحدہ عرب امارات کے ملکوں میں بہت تیزی سے لگ رہی ہے چائنا کے ٹرائل کے مطابق اس کی افادیت 79 فیصد اور متحدہ عرب امارات کے ٹرائل کے مطابق افادیت 86 فیصد ہے – 13 دسمبر سے یہ ویکسین بحرین میں بھی منظور کرلی گئی ہے

جب کہ ایسٹرا زنیکا کی ویکسین انگلینڈ کی “آکسفورڈ یونورسٹی ” میں تیار کی گئی ہے – یہ ویکسین 30 دسمبر سے انگلینڈ میں “ایمرجنسی بنیادوں ” پر زیر استعمال ہے – اس وقت یہ ویکسین اپنی تحقیق کے آخری مرحلے ” فیز تھری ” میں ہے – جس کے مکمل ہوتے ہی یہ پاکستان سمیت بہت سے ملکوں میں درآمد کی جائیگی – ویکسین کا بین الاقوامی اتحاد “کویکس COVAX” جس میں امیر ملکوں کے ساتھ ساتھ غریب ملکوں میں ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے تعاون کیا جاتا ہے اور ان کو گرانٹ دی جاتی ہے ‘ اس کے ذریعے پاکستان کو اس ویکسین کی ” دو کروڑ خوراکیں ” مارچ میں فراہم کی جائینگی – اس ویکسین کی افادیت 62 سے 90 فیصد ہے

پاکستان میں چائنا اور انگلینڈ والی ویکسین منگوائی گئیں جن کی افادیت 62 سے 90 فیصد ہے – پاکستان میں امریکا والی “فائزر اور موڈرنا ” کیوں نہیں منگوائی گئیں جن کی افادیت 95 فیصد ہے ؟

یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں درآمد ہونے والی ویکسینوں کی افادیت امریکہ میں استعمال ہونی والی ویکسینوں سے کم ہے – اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی ویکسین ” ایم آر این اے ” ویکسین ہے جس کو سٹور کرنے کیلئے منفی 20 درجہ (موڈرنا ) سے لیکر منفی 70 درجہ سینٹی گریڈ ( فائزر ) جیسے کم درجہ حرارت درکار ہوتے ہیں – اتنے کم درجہ حرارت میں سٹوریج کا خرچہ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ پاکستان جیسا غریب ملک تو دور عرب امارات جیسا امیر ملک بھی اس کا بوجھ اٹھانا پسند نہیں کرتا — اس کے برعکس “سائنو فارم اور اسٹرو زنیکا ” کی ویکسین (جو کہ وائرس کو مار کر بنائی جاتی ہیں ) ان ویکسینوں کو 2 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ (یعنی عام فریج) میں سٹور کیا جاسکتا ہے جس سے خرچہ بہت کم ہو جاتا ہے –

کیا کرونا ویکسین انسان کا ڈی این اے بدل سکتا ہے ؟

بہت سی سازشی تھیوریاں جو ہوا میں گردش کر رہی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ وائرس “بندر کا ڈی این اے ہے جو انسان کی ڈی این اے کو بدل سکتا ہے ” اگر ایسا ہوتا تو ہیپا ٹائٹس بی اور خسرے کی ویکسین لینے کی وجہ سے آج ہم اب تک جانور بن چکے ہوتے – کیا آپ نے ان ویکسینوں کے بعد کسی کی دم نکلتے دیکھی ہے —؟ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے کہ ان ویکسینوں میں وائرس کی پروٹین کو استعمال کر کہ مدافعت پیدا کی جاتی ہے اور وائرس کا ڈی این اے اول تو ویکسین کا حصہ نہی ہوتا کیوں کہ اس کو پروسیس کر کہ اسی کیمیکل کے ذریے جس کو “”بیٹا پروپیو لیکٹون” کہتے ہیں’ ختم کردیا گیا ہوتا ہے – دوسرا یہ کہ خلیے میں کسی چیز کو بدلنے کیلئے اس تک رسائی لازمی ہوتی ہے – اللہ نے انسان کے خلیوں کے اندر ڈی این اے کے گرد ایک سخت جھلی ” نیوکلیر جھلی ” بنا دی ہے جو کسی بھی اجنبی ذرے کو اپنے اندر داخل نہیں ہونے دیتی – آج اگر دنیا میں اب تک دو کروڑ کے قریب افراد ویکسین لگوا چکے ہیں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اتنی جانوں کو یوں ختم کرنے کی سازش چل رہی ہوتی اورآپ اور میں مزے سے یہ تحریر پڑھ رہے ہوتے اور ہیومن رائٹس کی تنظیمیں ستو پی کر سو رہی ہوتیں – – شاید زیادہ لوگ یہ بات نہیں جانتے ہونگے کے یورپی یونین سمیت پچاسی سے زیادہ ملکوں میں ایک انٹرنیشنل کنونشن کا قانون نافذ ہے جو “ڈی این اے ” کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا – اس کنونشن کو “اوویڈو کنونشن (Oviedo )” کہا جاتا ہے – اس کی موجودگی میں یہ ممکن ہی نہیں کوئی ایک ملک یا ایک کمپنی ڈی این اے بدلنے کی کوئی ٹیکنالوجی متعارف کروا سکے – سو یہ ڈی این اے کسی جانور کا بن جانے والا چورن نہ بیچیں –

کیا اس ویکسین کے اجزا میں سور کا گوشت یا انسانی فیٹس کی چربی شامل ہے ؟

یہ ویکسین ہے کوئی انگلش ہارر فلم نہیں – اس ویکسین میں ” ایلومینیم ” کے ذرے شامل کیے جاتے ہیں جن سے انسان کے جسم کی اینٹی باڈی بنانے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے – اس کے علاوہ “پولی ایتھیلن گلایکول” کی ایک کوٹنگ شامل ہوتی ہے جو اس کے پروٹین کو بحفاظت انسانی خون سے انسانی خلیوں میں پہنچانے کا کام کرتی ہے – خدا کیلئے گوگل کرلیں – کہ “پولی ایتھیلن گلایکول” کیا ہوتا ہے – یہ محض ایک کیمکل ہوتا ہے اور اس جیسے اجزاء ہماری بہت سی روز مراه کی ادویات کا عام جز ہیں اور سب سے عام دوائی جس میں ایسے جز استعمال ہوتے ہیں “انسولین ” ہے تا کہ انسولین کا کام کرنے کا دورانیہ بڑھ سکے اور وہ اپنے ٹارگٹ پر پہنچنے سے پہلے جسم کے اندر کیمکلز سے تباہ نہ ہوجاۓ – – جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں کہ ویکسین میں وائرس کے ہی حصے ( پروٹین) کو ڈالا جاتا ہے جو اینٹی باڈی بناتا ہے – اور اس وائرس کا نام “کرونا” ہے “سور یا بندر یا فیٹس ” نہیں سو ویکسین میں ” بندر سور ” کی چربی شامل ہونا یا ان کا “ڈی این اے ” شامل ہونا انتہائی مضحکہ خیز بات ہے

کیا یہ سب یہودیوں کا کاروبار ہے – ویکسین بیچنے اور پیسے کمانے کا شوشہ ہے ؟

میں یہ بات ضرور مان لیتا اگر بس ایک ملک ہی یہ ویکسین بنا کر پوری دنیا کو بیچ رہا ہوتا – لیکن یہاں تو امریکا کا عیسائی ملک ہو یا اسرائیل کا یہودی ملک؛ کومیونسٹ روس ہو یا ایتھیسٹ چائنا ہو’—. سب ویکسین فراہم کر رہے ہیں- کیا سب کاروبار کر رہے ہیں ؟ وہ بھی اپنے ہی لوگوں سے؟ اب اگر مسلم دنیا میں اتنی جدت نہیں آسکی کہ وہ خود ویکسین بنا پاتی تو اپنی نالائقی کا بوجھ ہم دوسروں پر کیسے ڈال سکتے ہیں – آپ کے ذہنی سکون کیلئے بتاتا چلو کہ سائنو فارم (جو پاکستان میں آرہی ہے ) یہ ویکسین چائنا نے متحدہ عرب امارات کی فنڈنگ اور تعاون سے ہی بنائی ہے – پاکستان میں تو یہ ویکسین ” کووکس کے اتحاد ” کے تعاون کی وجہ سے مفت فراہم کی جایئگی تو پھر کاروبار کیسے ہوگیا ؟ سو یہ کمرشل سازشی نظریہ بھی غیر معقول ہے – میں حیران ہوں کہ ایسی سوچ ہمیں انسولین لگاتے ہویے کیوں نہیں آتی جو فرانس کی ایک یہودی کمپنی “ سنوفی ایونٹس “ بناتی ہے – اگر آپ کو کرونا ویکسین میں یہودی سازش اور کاروبار کی بؤ آرہی ہے تو یہی بؤ آپ انسولین میں بھی محسوس کریں اور آج کے بعد شوگر کا علاج “مقیت شہد “ سے ہی کریں –

کرونا ویکسین کے کیا کیا سائیڈ افیکٹ ہیں ؟

پیناڈول سے لیکر آگمنٹن تک ہر دوائی کے سائیڈ ایفکٹ ہوتے ہیں – لیکن انتہائی معمولی سائیڈ ایفکٹ ہونے اور انتہائی غیر معمولی افادیت ہونے کی وجہ سے وہ استعمال ہوتی ہے اسی طرح کرونا ویکسین میں بھی معمولی سائیڈ ایفکٹ ( جو کہ درج ذیل ہیں ) ممکن ہیں لیکن کرونا ویکسین سے کرونا انفیکشن نہیں ہوسکتا کیوں کہ اس ویکسین میں وائرس کا صرف پروٹین خول بنانے والے مفید ذرہ ہے ‘ بیماری پھیلانے والا وہ خطرناک ذرہ نہیں (جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے ) جس طرح روزانہ کام پر جاتے ہویے سڑک پر حادثوں کا خطرہ اور روزانہ روٹی پکاتے ہویے گیس کے چولہے پھٹنے کا رسک ہمیشہ ہوتا ہے اسی طرح کرونا ویکسین سے بھی ان معمولی اثرات کا خطرہ ہوتا ہے – تو کیا ہم سڑک پر نکلنا بند کر دیتے ہیں یا روٹیاں ہمیشہ تندور والی ماسی سے ہی لگواتے ہیں ؟ اس کا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں – ہاں اگر جن لوگوں کو کسی قسم کی الرجی ہے یا وہ حاملہ ہیں وہ ویکسین نہ لگوائیں

سائیڈ ایکفیکٹ
‏ انجکشن کی جگہ پر درد 4-5 فیصد… انجیکشن کی جگہ کا سرخ ہونا 2-3 فیصد ….جی کا متلانا 9-10 فیصد …‏سردرد 4-5 %
‏بخار 2-1 فیصد ….جوڑوں کا درد 5-4 فیصد ….
جسم میں درد ہونا 10-9 فیصد ….الرجی 0.02 %….
.کھانسی 0.5 %…فلُو 0.5% اور اینا فیلکیسس 0.002 %

آسٹریلیا میں ایک لڑکی کو ویکسین لگی اور تیس سیکنڈ میں وہ بیہوش ہوگئی- کیا ویکسین بیہوش بھی کرسکتی ہے ؟

وہ آسٹریلیا والی جو ویڈیو بہت عام ہے جس میں ایک لڑکی ویکسین کا ٹیکہ لگتے ہی بیہوش ہوجاتی ہے اس کو “ویزو ویگل سینکوپی “ کہتے ہیں جو ویکسین نہی بلکہ سوئی لگنے سے یا “اینکزایٹی” کی وجہ سے کسی بھی دوائی کے لگنے سے کچھ لوگوں میں ہوجاتی ہے اور کچھ دیر میں انسان ٹھیک ہوجاتا ہے ٣٠ سیکنڈ میں تو ویکسین خون سے جسم میں پہنچ ہی نہی پاتی تو بندہ کیسے بےہوش کر سکتی ہے – اس لئے کونفیوز ہونے کی بجاے گوگل کیجیے کہ “ویزو ویگل سینکوپی “ (vasovagal syncope) کیا ہوتی ہے

کرونا ویکسین کی کتنی خوراکیں لگتی ہیں اور کتنے عرصے بعد اینٹی باڈی پیدا ہوتی ہے ؟ وہ کتنے عرصے تک مفید رہتی ہے ؟

کپیس ویکسین کی دو خوراکیں چار سے آٹھ ہفتوں کے وقفے سے لگتی ہیں – اینٹی باڈی پہلی خوراک کے پانچ دن بعد پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے لیکن خون میں اس کی وافر مقدار دوسری خوراک کے دو ہفتوں کے بعد تک پیدا ہوتی ہے جو جسم کو مستقبل میں کرونا سے محفوظ رکھتی ہے – چونکہ یہ ایک نیا انفیکشن ہے اور ایک نیی ویکسین ہے ‘ اس لئے سائنسدان ابھی تک حتمی طور پر نہیں بتا سکتے کہ ایک ویکسین کتنے عرصے تک کار آمد ہوگی – لیکن ان کا اندازہ یہ ہے کہ دو سال تک ویکسین کار آمد رہی گی

کرونا ویکسین لگوانے کے بعد بھی کرونا ہوسکتا ہے ؟ کیا پھر بھی ماسک لگانا چاہیے؟
کرونا ویکسین کے اپنی وجہ سے کبھی کرونا نہیں ہوسکتا جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے ہان البتہ اس ویکسین کی افادیت 79 سے 86 فیصد ہے جیسا کہ پچھلے پیروں میں لکھا گیا ہے – اس کا مطلب ہے کہ 14 سے 21 فیصد کیسز میں ویکسین فیل ہوسکتی ہے اور کرونا ہوسکتا ہے – لیکن ایک بات بہت قابل ذکر ہے – اگر کرونا ہو بھی جائے تو ویکسین لگنے کی وجہ سے جو اینٹی باڈی پیدا ہوئی ہوتی ہے اس کی بدولت سنجیدہ والا کرونا نہیں ہوتا – یعنی مریض وینٹ پر نہیں جاتا اور ساتھ آٹھ دن میں گھر پر ہی ٹھیک ہوجاتا ہے – اسی لئے ماسک لگانا ویکسین کے بعد بھی ضروری ہے تا کہ اگر آپ ان چودہ سے اکیس فیصد کسیز میں آجائیں جن میں ویکسین فیل ہو سکتی ہے تب بھی ماسک کی بدولت آپ بیمار نہ ہوں

کیا ماسک لگانا ویکسین لگانے کا متبادل ہوسکتا ہے ؟
یہ ایک خوبصورت سوال ہے- ماسک کالونی کے چوکیدار کی طرح ہے اور ویکسین اپنے گھر کا بیرونی دروازے پر چٹخی لگانے کے مترادف ہے – اگر چوکیدارکالونی میں پہرا دے رہا ہو تو کیا اپ رات کو گھر کے دروازے کھول کر سوتے ہیں ؟ اسی طرح ماسک وائرس کی جسم میں انٹری کو روکنے کا موثر طریقہ ہے لیکن پھر بھی اگر کسی طرح وائرس کا چور اندر داخل ہوجاۓ تو ویکسین سے بننے والے اینٹی باڈی کی “چٹخنی” جسم کو اس چورکے حملے سے بچا لیتی ہے

ویکسین کے بعد ماسک لگانا ضروری ہے ؟

ماسک لگانا ویکسین کے بعد بھی ضروری ہے تا کہ اگر آپ ان چودہ سے اکیس فیصد کسیز میں آجائیں جن میں ویکسین فیل ہو سکتی ہے تب بھی ماسک کی بدولت آپ بیمار نہ ہوں

کیا کرونا کے مریضوں کو بھی ویکسین لگانی چاہیے جن کو ماضی میں کرونا ہو چکا ہے ؟
سائنسدانوں کو ابھی تک یہ علم نہی کہ کرونا کے انفیکشن کی وجہ سے جسم میں جو اینٹی باڈی (یعنی پلازما ) بنتا ہے وہ لمبے عرصے تک جسم کی کرونا سے حفاظت کرتا ہے کہ نہیں اسی لئے امریکا اور انگلینڈ میں جن مریضوں کو ماضی میں کرونا ہوا تھا ان کو بھی ویکسین لگائی جارہی ہے تا کہ ان کے جسم میں اینٹی باڈی زیادہ سے زیادہ عرصے تک قائم رہیں پاکستان میں کیا پالیسی اپنائی جاۓ گی یہ مستقبل میں معلوم ہوگا

کرونا میں موت کی شرح سو میں سے دو فیصد ہے – تو اتنی کم شرح ہونے وکی وجہ سے ہم کیوں پریشان ہوں ؟

دنیا میں آٹھ ارب لوگ ہیں – جن کا دو فیصد سولہ کروڑ بنتا ہے کیا اتنی بڑی تعداد میں انسانیت کی موت جو کہ سادی ویکسین سے بچائی جاسکتی ہے ہمیں قابل قبول ہوگی ؟ اس کے بعد بھی اگر آپ یہ شرح قبول کرنا چاہتے ہیں اور ویکسین نہی لگوانا چاہتے تو آپ کو اختیار حاصل ہے

قلم کی مسیحائی
ڈاکٹر وقاص نواز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں