89

گندم اور چینی بحران رپورٹ وزیراعظم کو پیش، جہانگیر ترین سمیت کئی نامور سیاسی خاندانوں کے نام شامل

 رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق چینی کے بحران میں سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین نے اٹھایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گندم اور چینی کے بحران پر ایف آئی ایے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ وزیر اعظم عمران خان کو پیش کردی گئی ہے جس میں جہانگیر ترین سمیت اہم شخصیات کے ناموں کی فہرست بھی شامل ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کی  سربراہی میں  میں تین رکنی کمیٹی کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق گندم اور چینی کے بحران کی بڑی وجہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ناقص پلاننگ، چینی کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے اور حکومت پنجاب کی 3 ارب روپے کی سبسڈی تھی ۔

رپورٹ کے مطابق 2018 میں ملک میں چینی ضرورت سے زیادہ تھی، مشیر تجارت، صنعت و پیداوار کی سربراہی میں شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) کی سفارشات کی روشنی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کے تحفظات کے بارجود 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے منظوری دے دی،

سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی نے اگلے سال گنے کی کم پیداوار کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

 رپورٹ کے مظابق چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا، چینی کی برآمد سے ناصرف مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ سے چینی برآمد کرنے والوں نے فائدہ اٹھایا بلکہ سبسڈی کی مد میں رقم بھی وصول کی

 شوگر ایڈوائزری بورڈ درست فیصلے کرنے میں ناکام رہا، دسمبر 2018ء سے جون 2019ء تک چینی کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا حالانکہ اس عرصہ میں کوئی نیا ٹیکس بھی نہیں لگایا گیا تھا

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنماء جہانگیر ترین نے اٹھایا،جنہوں نے سبسڈی کی مد میں 56 کروڑ روپے وصول کیئے جو کہ  مجموعی سبسڈی کا 22 فیصد ہے، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار خان نے 18 فیصد یعنی 45 کروڑ کا سبسڈی کی مد میں فائدہ اٹھایا اور تیسرے نمبر پر پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔

آٹا بحران کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ نےتاخیر سے گندم اکٹھا کرنا شروع کیا- پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے لئے طریقہ کار بنانے میں ناکام رہا۔ جسکا فائدہ فلور ملز نے اٹھایا- پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ فلور ملز کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آٹے اور چینی کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے بحران کے زمہ داروں کے تعین کیلئے  ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کی  سربراہی میں میں تین رکنی کمیٹی قائم کی تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں