91

چینیوں کیساتھ شادی یا خانہ بربادی

پاکستانی لڑکیوں کی چینی مردوں کے ساتھ شادیاں کروا کر چین سمگل کرنے اور جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ جسم فروشی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے

پاکستانی لڑکیوں کی چینی مردوں کے ساتھ شادیاں کروا کر انھیں چین لے جانے اور ان کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والے تشدد، جسم فروشی اور انسانی اعضا نکالنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان کی غریب کمیونٹی کو شادی کے نئے بازار کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔ انتہائی مفلس اور غریب خاندانوں کو اپنی لڑکی  کی چینی مرد کیساتھ شادی کیلئے ہزاروں ڈالر کی پیشکش کی جاتی یے اور سہانے مستقبل کے خواب دیکھائے جاتے ہیں چین میں غیر ملکی دلہنوں کی طلب بہت زیادہ ہے ، اس کی وجہ ایک بچہ پالیسی ہے جس نے ملک کا جنسی توازن بگاڑ دیا۔ اس لئے متوقع چینی دلہے والدین کو رقم اور شادی کے اخراجات کی پیشکش کرتے ہیں۔ بعض چینی دلہے ان ہزاروں کارکنوں کا حصہ ہیں جوکہ سی پیک منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ باقی دلہے نیٹ ورکس کے ذریعے چین سے براہ راست دلہنیں تلاش کرتے ہیں۔ یسفک لنکس کی ڈائریکٹر میمی ویو کے مطابق چائنہ میں زیادہ تر دلہنیں ویتنام، لاؤس اور شمالی کوریا سے لائی جاتی ہیں تاہم، اب لوگ پاکستانی دلہنوں کو ترجیح دے رہے ہیں- پاکستان شادی کے بروکروں کے ریڈار پر گزشتہ سال آیا تھا۔گوجرانوالہ میں چند ماہ کے دوران سو سے زائد مسیحی لڑکیوں کی چینیوں کے ساتھ شادیاں کرائی گئیں، جن کا تعلق انتہائی غریب گھرانوں سے تھا۔

بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں اس حوالے سے روزانہ دو، تین متاثرہ خواتین یا ان کے عزیزواقارب کی درخواستیں موصول ہو رہی ہیں اور اب تک تقریباً 20 خواتین کو پاکستان واپس بھجوایا جا چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں