37

پیشاب کی رنگت سنگین مرض کی علامت؟

جسم سے پیشاب کا اخراج ایک قدرتی عمل ہے ہمارے گردے اضافی پانی اورفاضل مادوں کو خون سے فلٹر کرتے ہیں جو کہ مثانہ پیشاب کی صورت میں خارج کرتا ہے۔اوسطاً ایک فرد روزانہ چار سے چھ بار پیشاب کرتا ہے

پیشاب کی رنگت (یوروکروم)  پیشاب کی رنگت کسی بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہے. قدرتی طور پر پیشاب کی رنگت جسم میں پانی کی مقدار مناسب کی موجودگی میں ہلکی پیلی ہوتی ہے

شفاف رنگت

پیشاب کی شفاف رنگت اس بات کی علامت ہے کہ آپ روزانہ درکار پانی کی مقدار سے زیادہ پی رہے ہیں، بہت زیادہ پانی پیناجسم میں نمکیات کا توازن بگاڑ کر الیکٹرولائٹس کو متاثر کرسکتا ہے، کبھی کبھار پیشاب کی رنگت شفاف ہونا فکرمندی کی بات نہیں ہے، تاہم ہمیشہ یہ رنگت نظر آئے تو پانی کی مقدار میں میاسب کمی لے آئیں کیونکہ نمکیات کے اخراج سے جسم میں کیمیائی عدم توازن ہوسکتا ہے۔

گولڈن یا عنبر
پیشاب کی رنگت اگر گہرے گولڈن یا عنبر جیسی نظر آئے تو یہ قدرتی ہوتا ہے جو کہ پانی پینے سے اس سیال میں ہلچل کےنتیجے میں ہوسکتا ہے۔ جسم میں خون کے خلیات پہنچانے میں مدد دینے والے ہیموگلوبن بھی پیشاب کی رنگت پر اثرانداز ہوتا ہے جبکہ بی وٹامنز کا بہت زیادہ استعمال بھی اس رنگت کو نیون پیلا کرسکتا ہے۔

سرخ یا گلابی
پیشاب کی رنگت سرخ یا گلابی کچھ غذاﺅں جیسے چقندر، بلیو بیریز یا دیگر کو کھانے کا نتیجہ ہوسکتی ہے، تاہم کئی بار اس کی وجہ مختلف ہوسکتی ہے کچھ امراض جیسے مثانے پھول جانے، مثانے اور گردے میں رسولی اور گردوں میں پتھری وغیرہ بھی اسکی وجہ ہو سکتے ہیں، اگر پیشاب کی اس رنگت پر تشویش ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

نارنجی
اگر پیشاب کی رنگت نارنجی یا اورنج جسم میں پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن کی علامت ہے، اگر پیشاب کی اس رنگت کے ساتھ فضلے کی رنگت بھی ہلکی ہوگئی ہے تو یہ ممکنہ طور پر بائل (پتے میں موجود سیال) کا دوران خون میں شامل ہونا ہوسکتا ہے، یرقان کے شکار افراد کو بھی پیشاب میں اس رنگت کا سامنا ہوتا ہے۔

نیلا یا سبز

پیشاب کی نالی میں بیکٹریا انفیکشن کے نتیجے میں پیشاب کا رنگ نیلا، سبز یا جامنی ہوسکتا ہے تاہم دونوں رنگ فوڈ کلر کا نتیجہ  بھی ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ یہ گردوں یا مثانے کے طبی ٹیسٹ کے لیے استعمال ہونے والی ڈائیز کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے،  عموماً پیشاب کی نیلی رنگت شاذونادر ہی نظر آتی ہے اور زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ غذا میں کسی چیز کو کھانے کا نتیجہ ہے۔

گہرا بھورا رنگ
اگر پیشاب کی رنگت میں بھورا رنگ گہرا ہوجائے تو یہ اکثر ڈی ہائیڈریشن کی علامت ہے ہے، مگر یہ کچھ ادویات کا سائیڈ ایفیکٹ بھی ہوسکتا ہے۔ زیادہ مقدار میں کورا گندل کھانے کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے جبکہ کسی مرض کے نتیجے میں دوران خون میں قدرتی کیمیکلز جمع ہونے سےبھی یہ رنگت نظر آسکتی ہے۔ تاہم کئی بار یہ جگر کے امراض کی علامت بھی ہوتی ہے۔

جھاگ زیادہ ہونا
یہ پیشاب کی نالی میں سوزش کی علامت ہوسکتی ہے جبکہ گردوں اور دیگر سنگین امراض کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے، جھاگ پیشاب میں پروٹین کے اخراج کی علامت ہو سکتی ہے جو کہ گردوں کی امراض کی وجہ ہوسکتی ہے۔، تاہم یہ صرف ڈی ہائیڈریشن کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ ایسا کبھی کبھار ہو تو پریشانی کی بات نہیں کیونکہ یہ پیشاب کرنے کی رفتار کا نتیجہ ہوسکتا ہے تاہم اگر رنگت میں پیشاب میں جھاگ یا بلبلے  اکثر اوقات نظر آتےہوں تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کرنا چاہیے۔

۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں